a144.png

ï·º
طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
ملتی ہے اِس جہاں کو مدینے کی روشنی

کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے
پھیلا رہے تھے آپ ؐ قرینے کی روشنی

اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیئے عطا
یا صاØ+بِ لولاک مدینے Ú©ÛŒ روشنی

Ø´ÙŽÙ‚ الصَدر سے ہو گئے Ø+یران جبرائیل
پھیلی تھی کلُ جہان میں سینے کی روشنی

رمضان ہو کہ ما ہ ربیع الا ولی ہو بس
چاروں طرف ہے ان کے مہینے کی روشنی

اک صاØ+بِ کمال کا وہ Ø+سن با کمال
مہکا رہا تھا اُن کے پسینے کی روشنی

یزداں بھی اُن پہ بھیجتا ہے رات دن درود
شمس و قمر سے بڑھ کے نگینے کی روشنی
جس وصلِ بے مثال میں طاری تھی بے خودی
بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی

سرکار آپٖؐ کی ہی گدا ہوں کرم ہو بس
درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی

شاہیں نبی کے دم سے ہی مجھ کو ہو ئی عطا
مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی